قتیل شفائی

قتیل شفائی
اصل نام : اورنگزیب خان
قلمی نام : قتیل شفائی
ولادت : 24 دسمبر 1919 ء
وفات : 11 جولائی 2001 ء
قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (24 دسمبر 1919ء – 11 جولائی 2001ء) پاکستان اردو شاعر تھے۔
قتیل شفائی صوبہ خیبر پختونخواہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔
کلام کی خصوصیات
قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں ایک صف اول کے ترقی پسند شعراء میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے
اعزازت
تمغہ حسن کارکردگی 94ء ، آدم جی ایورڈ ، امیر خسرو ایورڈ ، نقوش ایورڈ ۔ نیز انڈیا کی مگھد یونیورستی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورستی کی دو طالبات نے ایم کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔
فلمی نغمہ نگاری
پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا ۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دئیے گئے۔
تصانیف
ہریالی
گجر
جلترنگ
روزن
جھومر
مطربہ
چھتنار
گفتگو
پیراہن
آموختہ
ابابیل
برگد
گھنگرو
سمندر میں سیڑھی
پھوار
صنم
پرچم
انتخاب (منتخب مجموعہ)
کلیات
رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے