ظلم کرتے ہو اک زمانے سے

ظلم کرتے ہو ک زمانے سے
باز آجاؤ دل دکھانے سے

جب پتہ ھے کہ ٹوٹنا ھے اسے
فایٔدہ کیا ھے دل لگانے سے

اسکو کچھ پتہ ھی نہیں اپنا
حل پوچھو نا تم دیوانے سے

ہاتھ خالی ھی لوٹ جانا پڑا
کتنی امید تھی زمانے سے

اب تو یادیں بھی ہو رہیں دھندلی
لوٹ آو کسی بہانے سے

خوب آنسو بھائے ہیں عزیز
زخم لگتے ہیں مسکرانے سے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے