زباں نہ بول سکی جو، مرا قلم فرمائے

زباں نہ بول سکی جو، مرا قلم فرمائے
مری خموشی زمانے میں سب رقم فرمائے
یہ میرا دل کبھی ہوتا تھا میرے سائیں کا گھر
سو جو بھی آئے یہاں دھیان سے قدم فرمائے
بہار ہوتی تھی چاروں طرف کبھی میرے
بدل گیا مرا موسم خدا کرم فرمائے
وہ چیخ چیخ کے رویا تمہارے جانے پر
پھر اس کے بعد کہاں اس نے اپنے غم فرمائے
چلائے نبض ہماری یہ اس کے ہاتھ میں ہے
ہماری سانس رکے جیسے ہی وہ تھم فرمائے
اسے بتاؤ کہ اب دور سے علاج نہیں
ہماری آنکھوں میں دیکھے وہ اور دم فرمائے
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے