زندگی تجھ کو مناؤں کب تلک

زندگی تجھ کو مناؤں کب تلک
یہ بتا تجھ سے نبھاؤں کب تلک
غم کو سینے سے لگاؤں کب تلک
ضبط اپنا آزماؤں کب تلک
تُو نہ خوشبو ہے نہ ہی رنگِ سحر
ناز تیرے میں اٹھاؤں کب تلک
تُو کبھی تو کوئی اور بھی ساز چھیڑ
ایک نغمہ گنگناؤں کب تلک
زندگی کی سخت راہوں پر بھلا
میں برہنہ پاؤں جاؤں کب تلک
پیار سے خالی در و دیوار پر
نام تیرا میں سجاؤں کب تلک
آنسوؤں سے یہ بتا ناہید میں
حدّتِ غم کو بجھاؤں کب تلک
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے