زندگی تو کبھی ہی مسکراتی ہے یارو

زندگی تو کبھی ہی مسکراتی ہے یارو
ورنہ تو خون ہمارا جلاتی ہے یارو
لوگ کرتےہیں محبت اسے جاں سےبڑھ کر
مار دیتی ہے بہت بے ثباتی ہے یارو
کوٸی آٸےکوٸی جاٸےمجھےتوغم ہی نہیں
یہ تو اب مسٸلہ ہی کاٸناتی ہے یارو
لوگ پاگل بنےپھرتے ہیں محبت میں یہاں
ایک جذبہ ہے بس جو وارداتی ہے یارو
پیار ہو جانا بڑی بات نہیں ہے ہو مگر
ہر کسی سے ہو جانا نفسیاتی ہے یارو
عشق پہلے پہل اچھا نہیں لگتا تھا پھر
ہم بھی سمجھے محبت واجباتی ہے یارو
عشق بہتر ہے حقیقی یا مجازی عاجز
ہو گیا ہے اگر تو حادثاتی ہے یارو
ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے