زندگی رکتی تو نہیں

"زندگی رکتی تو نہیں”
تحریر: لبنیٰ مقبول

قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں- زندگی میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن پھر اسی آنے جانے میں اچانک کچھ لوگ آتے ہیں اور اپنی جگہ بنا کر ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ زندگی ان کے بغیر کتنی ادھوری ہے

اس آنے جانے میں ایک دوسرے کے قریب لانے کا سب سے اہم ذریعہ سوشل میڈیا بنتا ہے- آن لائن، آف لائن اسٹیٹس دیکھتے دیکھتے، تعارفی چیٹ سے کالز اور پھر وڈیو کالز تک کا سفر کتناجلد طے ہوجاتا ہے کہ احساس تک نہیں ہو پاتا
زندگی کا ہر لمحہ خوبصورت اور انوکھا لگتا ہے- گزشتہ زندگی بے رونق لگتی ہے- موجودہ زندگی مکمل لگنے لگتی ہے- اس سارے منظر میں سوشل میڈیا نئے رابطے بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور اسی سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی ننانوے فیصد محبتوں کا افسوسناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ یہی قربتیں آئندہ زندگی میں تباہی لانے کی ذمہ دار ہوتی ہیں اور زندگی میں بہت گہرے اثرات چھوڑ جاتی ہیں

بہرحال اس سب کی ابتدا میں ہی زندگی کو دیکھنے اور جینے کا رنگ ڈھنگ بدل جاتا ہے- شب و روز ایک نئے انداز میں ایک نئے خمار میں گزرتے ہیں
الوہی سی مسکراہٹ شخصیت کے گرد حصار بنا لیتی ہے- پہلے عام سی لگنے والی باتیں خاص لگنا شروع ہوجاتی ہیں

لفظوں کو زندگی ملتی ہے اور سوچوں کو نیا راستہ- آنے والا اس شدت سے چلا آتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہر آنے والی سانس بس تھم سی گئی ہے ، زندگی عدم سے وجود کا سفر بہت تیزی سے اسی ایک احساس پر طے کرجاتی ہے- سرشاری، مستی، خماری، شرارت.. جذبوں اور امنگوں کا ایک خوشگوار سفر طے ہونا شروع ہوجاتا ہے- زندگی حسین سے حسین تر ہونا شروع ہوجاتی ہے

لیکن پھر یکایک یہ کیا ہوا….

ارے یہ تو منظر ہی بدل گیا- جو ضروری تھا وہ مجبوری بن گیا- گلے اور شکوے، تعریفوں کو نگلنا شروع ہوجاتے ہیں- حسن کی کشش ماند پڑنی شروع ہوجاتی ہے- ہرکہے گئے لفظوں کی وضاحت مطلوب ہوتی ہے اور باتیں پکڑنا اور اس پر تناؤ اور کشیدگی سے رابط منقطع کرنا معمول بننا شروع ہوجاتا ہے

آن لائن دیکھ کر آف لائن اور آف لائن دیکھ کر آن لائن ہونا حتیٰ کہ نمبر اور اکثراکاٶنٹس تک بدل لینے کی نوبت آجاتی ہے

ایک فریق سوچتا ہے کہ کہاں غلطی ہوئی کاش کہ
وقت پلٹ جائے اور جادو کی چھڑی سے اس متنازعہ بات کو مٹا دیا جائے- سب پہلے جیسا ہوجائے جیسا اچھے دنوں میں ہوتا تھا- منظر ویسا ہی حسین و دلکش رہے – محبت بھری باتوں میں تلخیاں نہ آنے پائیں

وقت وہیں ٹھہر جائے اور جدائی جیسا منحوس اور تکلیف دہ لفظ محبت کی سلیٹ سے مٹ جائے لیکن چاہنے سے کب کچھ حاصل ہوا ہے- تقدیر کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے اور جدائی لکھی جا چکی ہوتی ہے

جب کہ اس کے برعکس غلط فہمیوں، انا اور اپنی ذات کا زعم لیے دوسرا فریق سوچتا ہے یہاں اب وقت پورا ہوا کس طرح اب اس سب سے جان چھڑائی جائے- بیزارگی وجود کا حصہ اور گفتگو کا خلاصہ بننا شروع ہوجاتی ہے- بے تکان بولے جانے والے جملے "ہاں، ہوں” جیسے کھوکھلے اور محدود لفظوں کی شکل میں ڈھل جاتے ہیں

نارمل باتیں جو پہلے اہمیت لیے ہوئے ہوتی تھیں اور عام سی بات بھی بہت خاص لگتی تھی تو اس مرحلے میں وہ اب خاص باتیں بھی عام توجہ حاصل نہیں کرپاتیں- دل سے دل کا ناطہ اور پل پل سوشل میڈیا ہر ہونے والا ہر رابطہ اس مرحلے پر اختتام پزیر ہوجاتا ہے- باضابطہ ہر جگہ سے بلاک کرکے بریک اپ پر مہر ثبت کردی جاتی ہے

وقتی جھکاؤ، پسندیدگی، عادت، محبت اور عشق میں سے کسی رخ کا سمجھ نہ رکھنے والے دونوں فریقین اس تعلق کو کوئی بھی نام دینے سے قاصر ہوتے ہیں- اگر محبت تھی تو محبت یکطرفہ نہیں بڑھ سکتی، یک طرفہ محبت تو بس دل کی ایک کسک بن کر دل میں ٹیسیں اٹھاتی رہتی ہے- اس صورتحال میں زبردستی دوسرے فریق کو شامل کرکے محبت کا بوجھ گھسیٹنا فضول ہوتا ہے-

خاموشی سے راستے الگ کرنا عقلمندی لگتی ہے- اور پھر وہی ہوتا ہے جو اس طرح کی محبتوں کا انجام ہوتا ہے- جو محبت کی تپش دل میں لے کر بچھڑا وہ زندگی میں وہیں رک جاتا ہے
حیران پریشان سا،
یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہ آخر یہ ہوا کیا؟
یکایک بہاروں سے پت جھڑ کے موسم کا سفر زیست کوحیران پریشان کرجاتا ہے

گتھیاں سلجھاتے ہوئے اور خود کو الجھاتے ہوئے زندگی کے شب و روز بوجھل سے گزرنے شروع ہوجاتے ہیں- زندگی میں واپس پلٹنا اتنا آسان نہیں ہوتا- کچھ دنوں کی وقتی خوشی زندگی کے بہت اچھے اور خوبصورت پل چھین کر لے جاتی ہے- زندگی ہی بوجھل ہوجاتی ہے

اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ….
بلکہ بہت سارے سوال اٹھتے ہیں

اگر ایک فریق مطمئن اور اپنی زندگی میں مگن آگے کی طرف بڑھ چکا ہے- تو کیا دوسرے فریق کے لیۓ یہ مناسب ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بوجھل بنا کر اسکا بوجھ گھسیٹتا رہے؟ وہیں کھڑا رہ جائے؟؟
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا…..

زندگی رکتی نہیں آگے بڑھتی ہے، جس نے اپنے وجود کو سنبھال لیا اور درد کی تصویر نہیں بنا وہی کامیاب ہے، اگر دنیا کو اپنے غموں میں شریک کرنے کی کوشش یا غلطی کی تو ذندگی اجیرن ہوجائے گی۔ زخم مندمل ہونے میں کچھ وقت تو درکار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے

اللہ ایک در بند کرتا ہے تو اس سے پہلے سو در کھولتا ہے، وہ رب کریم بنا کسی اچھے انتظام کے کوئی چیز کبھی نہیں لیتا، یہ قانون فطرت ہے۔ کچھ لوگوں کو آزمائش دے کر آزمایا جاتا ہے کچھ کو سب عطا کر کے

جو بھٹک گئے وہ تاریکیوں اور اداسیوں کا نا ختم ہونے والا سفرعمر بھر طے کرتے رہتے ہیں لیکن جو سنبھل جاتے ہیں یا جنکو راستہ دکھادیا جاتا ہے وہ اس سفر سے ایک نئے سفر پر چل پڑتے ہیں

درد لیے ہوئے دل دردمند بن کر دوسروں کا درماں بنتے ہیں- پھر سجدے سکون دیتے ہیں- اندر کی نگاہ روشن ہوتی ہے تو توبہ کے دروازے کھلتے ہیں- ندامت، شرمساری، آنسوؤں سے روح کا غسل ہوتا ہے- روح کی پاکیزگی نصیب ہوتی ہے

سچ پوچھیے تو عشقِ حقیقی کا پر سکون راستہ اور پھر منزل یہیں سے ملتی ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے