زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے
غربت کے نوکیلے آزار جب کسی گھرانے میں کھب جائیں تو وہ اُس گھر کے غنچوں اور کلیوں کے چہروں کی تروتازگی اور شگفتگی کو نوچ کر اُنھیں رُوکھے اور پھیکے بنا ڈالتے ہیں۔ایسے گھروں کے بچّے بھی رزق کھوجتے مارے مارے پھرتے ہیں۔
چھتوں سے دھوپ تو رکتی ہے، بھوک ٹلتی نہیں
تلاشِ رزق میں گھر سے نکلنا پڑتا ہے
بچّے ہوں یا بڑے، مفلسی کا عفریت نوچ کھاتا ہے چہروں کی شادابی اور آنکھوں کی رعنائی کو۔ناداری کے جھکّڑ چہروں کو مسخ کر کے لبوں کی مسکراہٹ اور تبسّم کے نکھار اور وقار تک کو مسموم کر ڈالتے ہیں۔کتنی ہی بار آپ نے خوب صورت اور حسین وجمیل بچّوں کو مَیل میں اٹے ہاتھوں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے کوڑے کے ڈھیر پر ردّی کاغذ اور پلاسٹک کی بوتلیں اکٹھی کرتے دیکھا ہو گا۔آپ نے کتنی ہی مرتبہ ننّھے منّے ہاتھوں کو کسی ورکشاپ کی سیاہی میں لتھڑے اور استاد کی جھڑکیاں سنتے دیکھا ہو گا۔آپ نے سیکڑوں مرتبہ آنکھوں میں اداسیاں سمیٹے ایسے بچّوں کو جوتے پالش کروانے کے لیے مِنتیں سماجتیں کرتے بھی دیکھا ہو گا۔آپ ہسپتالوں میں چلے جائیں یا کسی ریلوے سٹیشن پر، آپ کو غربت کی چوکھٹ پر سر پٹختے درجنوں بچّے دکھائی دیں گے۔ان بچّوں کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں محنت اور مشقت کے باعث دراڑیں پڑ چکی ہوں گی۔ایسے کتنے ہی بچّے ہوں گے جو سخت جانی کے باعث تھکے ہارے کسی فٹ پاتھ یا ریلوے سٹیشن پر سوئے پڑے ہوں گے۔مفلسی بچّوں کو سڑکوں پر لے آئی ہے۔وہ اپنے گھر والوں کے پیٹ پالنے کے لیے در بہ در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔معاشی بدحالی کے باعث ننّھے بچّے ہوٹلوں میں برتن مانجتے اور مالک کی جھڑکیاں برداشت کرتے ہیں۔آپ نے یقیناً بَھٹّا خِشت پر معصوم پھولوں کو اینٹیں تھاپتے بھی دیکھا ہو گا۔ممکن ہے آپ نے ڈینٹنگ اور پینٹنگ کے باعث بچّوں کے پھیپھڑوں میں گَرد گُھستی بھی دیکھی ہو، شاید آپ نے بارہ بارہ گھنٹوں تک پنجوں کے بل بیٹھ کر قالین بافی کرتے بچّوں کے مڑے ہوئے پنجے بھی دیکھے ہوں۔
آج کے دور میں نادار کا جینا یوں ہے
جیسے معذور کا دیوار پہ چلنا مشکل
غربت کے آلام چہروں کی مسکان کو منہدم کر ڈالتے ہیں۔ناداری کے نوکیلے نشتر، تفننِ طبع اور حسِ لطافت تک کو مٹا ڈالتے ہیں۔
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں نہیں ڈھل سکتی
یہ المیہ ساری دنیا کا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کے بچّے مفلسی، غربت اور تنگ دستی کے باعث سخت محنت ومشقّت کرنے پر مجبور ہیں۔ایسے کملائے پھولوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔آئی ایل ڈی کے مطابق دنیا بھر میں 35 کروڑ سے زائد بچّے سخت کوشی پر مجبور ہیں۔ان میں سے 18 کروڑ بچّوں کی حالت انتہائی ابتر اور دگرگوں ہے۔بچّوں کی جبری مشقّت میں بھارت دنیا میں سب سے آگے ہے۔بھارت میں 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد بچّے غذائی قلت اور غربت کے شکار ہیں۔بھارت میں ہر چوتھا آدمی بھوک کا ستایا ہوا ہے۔بھارت کے علاوہ پہلے پانچ ممالک میں بنگلہ دیش، چاڈ، جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا شامل ہیں۔لائبیریا چھٹے، میانمار ساتویں، نائجیریا آٹھویں اور پاکستان نویں نمبر پر ہیں۔صومالیہ کا نمبر دسواں ہے۔دیگر معروف ممالک میں انڈونیشیا اٹھارویں، مصر انتیسویں، فلپائن چونتیسویں اور ویت نام اڑتیسویں نمبر پر ہیں۔افریقی ممالک میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق چاڈ، گھانا اور سرالیون میں پچاس فی صد تک بچّے محنت کرنے پر مجبور ہیں۔جب کہ نائجیریا میں چھیاسٹھ فی صد تک بچّے دن رات کام کرتے ہیں۔پاکستان میں پچاس لاکھ کے قریب بچّے در بہ در بھٹکتے معصوم ہاتھوں کے ساتھ محنت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اکثر جگہوں پر 12 گھنٹے تک ان نازک اندام بچّوں کو کام کرنا پڑتا ہے، مگر معاوضہ بہت کم ملتا ہے۔پشاور میں دس ہزار سے زائد بچّے جسمانی مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ان بچّوں کی اکثریت فرنیچر، آٹو ورکشاپ یا پھر بَھٹّا خِشت پر اینٹیں تھاپتی دکھائی دیتی ہے۔ملک کے صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد میں ایک لاکھ تیس ہزار بچّے کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ہسپتالوں فضلہ جمع کرنے پر مجبور ہیں۔خیبر پی کے میں ایک ہزار سے زائد بچّے کوئلے کی کانوں میں کام کر رہے ہیں جو انتہائی جان لیوا اور اذیت ناک کام ہے۔ان محنت کش بچّوں میں 73 فی صد لڑکے اور 27 فی صد لڑکیاں محنت مزدوری کر کے اپنا اور اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں۔پاکستان میں چائلڈ لیبر پر پابندی ہونے کے باوجود آپ کسی فیکٹری میں چلے جائیں وہاں آپ کو انتہائی کم معاوضے پر کام کرنے والے بچّوں کی کثیر تعداد دکھائی دے گی۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس گھمبیر اور سلگتے مسئلے کا حل کیا ہے؟ میں دولت کی منصفانہ اور غیر منصفانہ تقسیم کا رونا بھی نہیں رونا چاہتا اور نہ میں اس بات کا حامی ہوں کہ جن لوگوں کے پاس ان گنت مال واسباب ہیں، وہ ان سے چھین لیے جائیں۔مسئلے کا حل کچھ اور ہے، جو ہے بھی قابلِ عمل اور انتہائی پائدار۔مگر مسئلے کے حل سے قبل آئیے! کچھ امیر ترین لوگوں کی دولت اور خزانوں کے انبار پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالیں۔پاکستان کے پہلے چھے امیر ترین لوگوں میں شاہد خان، انور پرویز، میاں منشا، ملک ریاض، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے نام شامل ہیں۔ان لوگوں کے کُل اثاثے تقریباً 21 ارب ڈالر ہیں۔یہ اثاثے لکھنے کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ یہ رقم ان سے چھین کر غربا میں تقسیم کر دی جائے۔نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے اور نہ یہ مسئلے کا حل ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ ان امرا سے ان کے مال کی زکات کی پوری رقم وصول کر کے ان غریب لوگوں میں تقسیم کر دی جائے تو واللہ! ایک شخص بھی غریب نہیں رہے گا۔پہلے چھے امیر ترین لوگوں کی رقم پر زکات 84 ارب 52 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتی ہے جو کہ 5 لاکھ لوگوں میں 1 لاکھ 69 ہزار روپے کے حساب سے تقسیم کی جا سکتی ہے۔یہ تو صرف چھے افراد کی زکات ہے جس سے پانچ لاکھ افراد اپنا کاروبار کر سکتے ہیں۔اگر ہر صاحبِ ثروت اپنا عشر اور زکات ادا کرنا شروع کر دے تو ایک بھی شخص غریب نہیں رہے گا۔ان امیر لوگوں کے اربوں ڈالر ان ہی کو مبارک بس ان سے فقط اتنی زکات لے لی جائے جتنی اللہ نے فرض کی ہے تو غربت کا نام ونشان تک باقی نہیں رہے گا لیکن اگر زکات اور عشر کے نظام کو فعال نہ بنایا گیا تو پھر جیسے مرضی آئے نظام لے آئیں، غربت کو بڑھنے سے کوئی روک ہی نہیں سکتا۔
مسئلے تو زندگی میں روز آتے ہیں مگر
زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے
حیات عبداللہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے