زندگی حسن بام و در تو نہیں

زندگی حسن بام و در تو نہیں
چند اینٹوں کانام گھر تو نہیں
سر رہ حال پوچھنے والے
دل کی ہر بات مختصر تو نہیں
کیا کسی پر یقیں کریں باقیؔ
بے سہارا ہیں بے خبر تو نہیں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے