زندگی۔۔۔ایک آزمائش

زندگی۔۔۔ایک آزمائش
مسلم شریف:7417 میں ہے کہ دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔یعنی ہر انسان دنیا میں اپنے ہر قول و فعل سے آزمایاجا رہا ہے۔وہ شریعت کا پابند ہے۔مومن اور کافر کا ایک فرق یہ ہے کہ کافر اس آزمائش کا انکاری ہے اور اپنی مرضی سے جی رہا ہے اور کافر کا کسی بھی تکلیف یا مصیبت پر آخرت میں بوجہ اس کے کفر کوئی اجر و ثواب نہیں ہے جبکہ مومن اس آزمائش پر ایمان رکھتا ہے جو تقدیر کا حصہ ہے اور صبر کرتا ہے اور اس کے صبر پربہترین اجر کی بشارت بھی ہے۔پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس آزمائش کے بارے میں قرآن و حدیث میں ہمارے لیے کیا کہا گیا ہے۔سورۃ العنکبوت:2 اور 3 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ”کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ ان کو یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا۔اور بے شک ہم نے اس سے پہلے لوگوں کو آزمایا تھا،سو پروردگار ان لوگوں کو ضرور ظاہر کر دے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی ظاہر کر دے گا جو جھوٹے ہیں "۔البقرہ:155 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ” ہم تمہیں خوف،بھوک،مال کے نقصان، جان کے نقصان اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے۔اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیں "۔ غور کریں انسان کی ہر مصیبت انہی پانچ آزمائشوں میں ہی داخل ہے۔ابن ماجہ: 4023 "حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں میں نے پوچھا اے میرے رسولؐ!لوگوں میں سب سے ذیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ انبیاء،پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں،پھر جو ان کے بعد ہیں،بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے،اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی،اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی۔مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا”۔ ابن ماجہ:3469 میں ارشاد ہے کہ "نبیؐ کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی(برا بھلا کہا)، نبیؐ نے فرمایا کہ اسے گالی(برا بھلا نہ کہو)نہ دو،اس لیے کہ اس سے گناہ ایسے ختم ہوتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے "۔بخاری شریف:5641 میں ارشاد ہے کہ”نبیؐ نے فرمایا کہ مسلمان جب بھی کسی پریشانی،بیماری،رنج و ملال،تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ اگر اسے کانٹا بھی چبھ جائے تو پروردگار اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتے ہیں "۔بخاری شریف: 5648 میں ارشاد ہے کہ "مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے کانٹا ہو یا اس سے ذیادہ تکلیف دینے والی کوئی چیز تو جیسے درخت پتوں کو گراتا ہے اسی طرح پروردگار اس تکلیف کو اس (مسلمان) کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے”۔مندرجہ بالا آیات و احادیث سے تین باتیں بڑی واضح پتہ چل گئیں۔ایک یہ کہ انسان پر آنے والی ہر مصیبت پروردگار کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے اور وہ ہر صورت میں آزمایا جاتا ہے وہ آزمائش کبھی چھوٹی بھی ہوتی ہے اور کبھی بڑی بھی ہو سکتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ یہ آزمائشیں یونہی نہیں ہیں بلکہ ان آزمائشوں پر صبر کرنے والوں کے لیے بہترین اجر و ثواب ہے۔پہلا اجر تو یہ ہے کہ اس کے تمام گناہ اس کے نامہ اعمال سے خارج کر دیے جاتے ہیں۔اور جب گناہ ہی نہ رہے تو وہ بفضل خدا جنت کی ہر نعمت کا مستحق بن جاتا ہے۔تیسری بات یہ کہ ظالم یہ نہ سمجھے کہ وہ بچ جائے گا،اگر دنیا میں کسی وجہ سے قانون کے شکنجے سے نکل بھی گیاتو آخرت میں ضرور پکڑ میں لایا جائے گا۔ بعض دفعہ شیطان دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ دین پر چلنے والوں کے لیے مصیبتیں ذیادہ آتی ہیں اور یہ وسوسہ بھی ڈالتا ہے کہ مظلوم رب کو پکارتا بھی رہتا ہے پر ظالم کا وار چل جاتا ہے اورمظلوم کی مدد نہیں ہوتی۔اس باطل خیال کو تو صرف یہ کہہ کر رد کیا جا سکتا ہے کہ یہ مصیبت اگر پہنچے نہ تو پھر آزمائش کیسی؟ اور دوسری ایک اور بات بھی ہے کہ وہ مصیبت اپنی کسی برائی کی ہی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی خوش بختی ہے کہ دنیا میں سزااور اس وجہ سے آخرت میں برات مل جائے۔اور پروردگار نے تسلی مخلوق کے لیے یہ بھی کہا ہے کہ،البقرہ:286 "پروردگار کسی شخص کو اس کی طاقت سے ذیادہ تکلیف نہیں دیتا۔جو اس شخص نے نیک کام کیے ہیں اس کا نفع بھی اسی کے لیے ہے اور جو برے کام کیے ہیں اس کا نقصان بھی اسی کا ہے”۔اسی آیت میں آگے دعا بھی سکھلائی کہ”اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہو جائے تو ہماری گرفت نہ فرمانا۔اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہمیں معاف فرما اور ہمیں بخش لے اور ہم پر رحم فرما،تو ہمارا مالک ہے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما”۔پروردگار نے توہم سب کو بھی ظلم کو روکنے اور مظلوم کی مدد کا بھی حکم دیا ہے۔یہ سب تماشائیوں کی بھی آزمائش ہوتی ہے۔ قصہ مختصر کہ ہمارا پروردگار ہر چیز پر قادر ہے وہ جو چاہے کرے۔قدرت کے ہر فیصلے میں حکمت ہوتی ہے جو کہ عقل انسانی کے دائرہ اختیارسے بعید ہے۔کس انسان کو کہاں اور کتنا آزمائش میں مبتلا کرنا ہے یہ فیصلہ اسی کا ہے جس نے تخلیق کیا ہے۔اس فیصلے میں کسی قسم کی مداخلت کی قطعا بھی کسی کو جرات نہیں کرنی چاہیے۔
اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے