زندگی چار دن کی مہلت ہے

زندگی چار دن کی مہلت ہے
سب کو بس ایک جیسی عجلت ہے
آئیے ، بیٹھیے اور اب کہیے
آپ کو مجھ سے کیا شکایت ہے
وہ جو تُم سے گریز کرتے ہیں
یہ بھی اُن کی بڑی عنایت ہے
جھوٹ اور سچ ہیں دونوں جاں کا وبال
مصلحت میں بڑی سہولت ہے
مانیے یا نہ مانیے لیکن
آپ کو بھی مری ضرورت ہے
دل کی رگ رگ نچوڑ لیتا ہے
عشق میں یہ بڑی مصیبت ہے
کون آئے گا آپ کی خاطر
چھوڑیے ، کس کو اتنی فرصت ہے
خاور اُن سے بھی تو کہو اِک دن
ہاں مجھے آپ سے محبت ہے
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے