فروری 5, 2023
Asma Faraz
عاصمہ فراز کی اردو غزل

زندہ رہنے کو بھی لازم ہے سہارا کوٸی
کاش مل جاٸے غمِ ہجر کا مارا کوٸی

ہے تری ذات سے مجھ کو وہی نسبت جیسے
چاند کے ساتھ چمکتا ہو ستارا کوٸی

یہ محبت تو کسی پار نہ لگنے دے گی
یہ وہ دریا ہے نہیں جس کا کنارا کوٸی

کیسے جانو گے کہ راتوں کا تڑپنا کیا ہے
تم سے بچھڑا جو نہیں جان سے پیارا کوٸی

ہم محبت میں بھی قاٸل رہے یکتاٸی کے
ہم نے رکھا ہی نہیں دل میں دوبارہ کوٸی

سوچتی ہو ں ترے پہلو میں جو بیٹھا ہوگا
کیسا ہوگا وہ پری وش وہ تمہارا کوٸی

کون بانٹے گا مرے ساتھ مری تنہاٸی
ڈھونڈ کر لادے مجھے زیست سے ہارا کوٸی

عاصمہ فراز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے