ذمہ دار کون؟

ذمہ دار کون؟
لڑکیوں کی کثیر تعداد رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہو رہی ہے۔ ذمہ دار کون؟
خوبصورتی کیا ہے؟ اگر یہ سوال پوچھا جائے تو عموماً جواب ملتا ہے ” خوبصورتی چہرے میں نہیں، دل میں ہونی چاہیے۔ دل کی خوبصورتی ہی اصل خوبصورتی ہے”
لیکن حقیقتا ً اس بات کو کون تسلیم کرتا ہے؟ کوئی بھی نہیں!
جہاں بات آتی ہے بیٹے کے رشتے کی تو ہماری روایتی آنٹیاں، حوروں کی تلاش میں جوتیاں گھساتی پھرتی ہیں۔ اور صرف حور ہی کیوں، انہیں تو اپنے بیٹے کے لئے خوبصورتی اور خوب سیرتی سے مالا مال شاہکار چاہیے ہوتا ہے۔
ذرا آج کل کے لڑکوں کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں، جنہیں ٹیلی ویژن پر آنے والی ہر لڑکی، خواہ جیسی بھی ہو، اپسرا لگتی ہے۔ اور اپنے ارد گرد موجود خوبصورت لڑکی میں سے بھی کیڑے نکلتے چل دیتے ہیں۔ یہ وہی لڑکے ہیں جو پڑھائی کے نام پر یونیورسٹی بھی صرف لڑکیاں تاڑ نے جاتے ہیں۔ اور لڑکیوں پر تبصرے کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ مجھے حیرت تو تب ہوئی جب سننے میں آیا کہ ہم تو مخلوط تعلیمی ادارے میں آئے ہی فقط لڑکیوں کے لئے ہیں۔
اور اگر کوئی لڑکی پسند آ جائے تو محض وقت گزاری کے لئے۔ کیونکہ ماں کے لاڈلوں نے شادی تو ماں کی پسند سے کرنی ہوتی ہے نا۔ لیکن زیرِ بحث مسئلے میں مکمل ذمہ داری صرف لڑکے والوں پہ عائد نہیں ہوتی بلکہ لڑکیوں والے بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ لاڈوں سے پلی بیٹی کو روزانہ کسی نمونہ کی مانند روایتی آنٹیوں کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ لڑکیاں اپنے چہرے اور قابلیت پر ہونے والے تبصروں کو زہریلے گھونٹ کی طرح پیٹی دکھائی دیتی ہیں اور اگر کسی کو لڑکی پسند آ جائے تو لڑکی والے یوں آسمان پر بسیرا کر لیتے ہیں گویا انہیں رشتوں کی ضرورت ہی نہ ہو۔
شرائط کچھ یوں ہوتے ہیں: لڑکا اکیلا ہونا چاہیے تاکہ بیٹی جاتے ہی سسرال میں ملکہ کے عہدے پر فائز ہو جائے۔ یعنی نہ ساس ہو نہ نند۔ اور تنخواہ اتنی ہو کہ لڑکی پیسوں میں کهیلے، لیکن عمر پھر بھی 25 سے اوپر نہ ہو۔ کیونکہ بقول آج کل کی شہزادیوں کے 25 کے بعد لڑکا، لڑکا نہیں رہتا بلکہ انکل بن جاتا ہے۔
اور ایسا مسئلہ لڑکے والوں کے ساتھ تو خیر شروع سے درپیش ہے۔ لڑکا بھلے 40 کا ہو، لڑکی تو 20 کی ہی پسند آتی ہے۔
لہٰذا نتیجتاً لڑکی اور لڑکے دونوں کی عمر نکل جاتی ہے اور بھگتنا تو خیر صرف لڑکیوں کو ہی پڑتا ہے کیونکہ لڑکوں کو تو کبھی دولت کی بدولت تو کبھی لڑکی والوں کی کسی مجبوری کے تحت چھوٹی عمر کی لڑکی مل ہی جاتی ہے۔ لیکن لڑکیوں کو عمر نکل جانے کی صورت میں شادی شدہ یا بوڑ ھے شخص کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔
جویریہ بلوچ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے