ذکرِ ہُو روشنی ہے، بحث نہ کر

ذکرِ ہُو روشنی ہے، بحث نہ کر
یہ درِ آگہی ہے، بحث نہ کر

آتشِ عشق کوودیعت جان
عزتِ دائمی ہے، بحث نہ کر

پہلے اُس کا جلال پھر اکرام
یہی خوش قسمتی ہے بحث نہ کر

دل سے آمین اُس کی مرضی پر
طاعتِ خالصی ہے، بحث نہ کر

کون کنکر ہے کون ہیرا ہے
چشمِ حق دیکھتی ہے، بحث نہ کر

نور سے نور کا وصال ہُوا
اب دمِ واپسی ہے، بحث نہ کر

ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے