ذکر میرا تو خیالات سے پہلے بھی تھا

ذکر میرا تو خیالات سے پہلے بھی تھا
شُہرَہ توخاکی حجابات سےپہلےبھی تھا
میں فسادی ہوں ملاٸک بھی شکایت کرتے
مجھ سےخطرہ تو خرابات سے پہلے بھی تھا
تجھ کو پہچان ملی جب میں ہوا تھا پیدا
میرا چرچا تو فسادات سے پہلے بھی تھا
بحث ہوتی رہی مجھ ذات پہ کتنے برسوں
میں سوالات وجوابات سے پہلے بھی تھا
تذکرہ ہوتا رہا میرے مراتب کا بھی
عالی میں اپنے کمالات سے پہلے بھی تھا
کوٸی درجے نا بہشت اور جہنم کے تھے
میں تو دنیاٸے مکافات سے پہلےبھی تھا
وعدہ شیطاں سے کیا تُو نے مری بخشش کا
ہے سہارہ جومناجات سے پہلے بھی تھا
دین خالص نہیں ملتا کہیں اب تو مجھے
دینِ احمدﷺ توخرافات سےپہلےبھی تھا
چاند تارے تو ابھی کل کی ہیں باتیں عاجز
نورِ احمدﷺتو سماوات سےپہلےبھی تھا
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے