زہر آلود ہے ہر سانس، نہیں لے سکتے

زہر آلود ہے ہر سانس، نہیں لے سکتے
مر چکے ہیں یہ شجر، سانس نہیں لے سکتے
نیند کی گولیاں لے لیتے ہیں ورنہ ہم لوگ
رات کے پچھلے پہر سانس نہیں لے سکتے
اِتنی وسعت میں گھٹن، ِاس کو خلا کہتے ہیں
کہ کھلا گھر ہے مگر سانس نہیں لے سکتے
کیسے لے لیں ترا احسان کسی ڈر کے بغیر؟
ہم تو بے خوف و خطرسانس نہیں لے سکتے!
تنگ بازار میں فہرست لیے سوچتے ہیں
اور کیا لیں گے اگر سانس نہیں لے سکتے؟
دل وہ گھر ہے کہ جو خالی ہے، ہوادار نہیں
آپ رہ سکتے ہیں پر سانس نہیں لے سکتے
بس اسی ڈر سے کہ دھندلائے نہ وہ آئنہ رُخ
جب تک اُس پر ہو نظر، سانس نہیں لے سکتے
ٹھوڑی، خنجر کی طرح چبھتی ہے سینے میں، عمیر!
اس قدر خم ہے کمر، سانس نہیں لے سکتے
عمیر نجمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے