ذہن میرا جِلا کے رُخ پر ہے

ذہن میرا جِلا کے رُخ پر ہے
یہ دریچہ ہوا کے رُخ پر ہے

تل محبت کا ا ک مرے دل میں
اک مرے دلرُبا کے رُخ پر ہے

غور سے دیکھ لو سروں کا جلوس
قافلہ یہ فنا کے رُخ پر ہے

حُسن ہے بھی اگر زمانے میں
ایک اُس خوش نما کے رُخ پر ہے

ہو چلی ہے اُمید مرنے کی
اب طبیعت شفا کے رُخ پر ہے

کیوں نہ پھولی سمائے آج حَیا
تجھ سے روشن ادا کے رُخ پر ہے

با وفاؤں کے خون کی سُرخی
بے وفا بے وفا کے رُخ پر ہے

حُسن ہے صرف سادگی میں، اور
سادگی بے رِیا کے رُخ پر ہے

عطر مل کے چلے شعورؔ کہاں
کیا سُلیماں سَبا کے رُخ پر ہے

انور شعورؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے