ذرا سی چھاؤں میسر ہے تھوڑا دَم لے لوں

ذرا سی چھاؤں میسر ہے تھوڑا دَم لے لوں
تمھارا دل ہی مرا گھر ہے تھوڑا دَم لے لوں
میں بوند بوند ترستی ہوئی زمین اور تُو
محبتوں کا سمندر ہے تھوڑا دَم لے لوں
تمام عمر پلائی تھی جس کو آنکھوں سے
اسی کے در پہ مرا سر ہے تھوڑا دَم لے لوں
وہ آدمی ہے فرشتہ تو بن نہیں سکتا
مگر فرشتوں سے بہتر ہے تھوڑا دَم لے لوں
میں جُون کی ہوں جُھلستی ہوئی کڑی دھوپ اور
تُو بھیگا بھیگا دسمبر ہے تھوڑا دَم لے لو
مجھے ملا ہے محبت کا دیوتا بن کر
میں جانتی ہوں ستمگر ہے تھوڑا دَم لے لوں
سفر لکھا ہے مقدر میں میرے صدیوں کا
سو اختیار اسی پر ہے تھوڑا دَم لے لوں
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے