ذرا احساس ہونے دو

مجھے وہ خود پکارے گا، ذرا احساس ہونے دو
سبھی مسئلے سدھارے گا، ، ذرا احساس ہونے دو
ابھی تو دیکھ کر مجھ کو، جو سر پہ خاک ڈالے ہے
وہ خود کو پھر نکھارے گا، ذرا احساس ہونے دو
ابھی جو اوڑھے پھرتا ہے ، پرائی عیش و عشرت کے
لبادے سب اُتارے گا، ذرا احساس ہونے دو
تمہیدیں باندھ کر اُلٹی، سدا جیتا ہے باتوں میں
وہ خود سے خود ہی ہارے گا، ذرا احساس ہونے دو
بیچ دوری بڑھانے کو، جو اس نے خار بوئے ہیں
سبھی رستے سنوارے گا، ذرا احساس ہونے دو
طارق اقبال حاوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے