Zanjeer Jab Pighalti He

زنجیر جب پگھلتی ہے سینے کی ہوک سے

سلمان یثرب آتے ہیں ارضِ ملوک سے

نادم کھڑے ہیں شہرِ مدینہ میں چند لوگ

آقاؐ پلٹ رہے ہیں جہادِ تبوک سے

آقاؐ ہمیں بھی راہ دکھا دیجئیے کہ ہم

صدیوں کے فاصلے پہ ہیں لمحوں کی چوک سے

آقاؐ ہمیں بھی دوست عطا کیجئیے کہ ہم

تنگ آ چکے ہیں سلسلہِ گرگ و خوک سے

مثلِ فضالہ مجھ کو بھی تسکین دیجئیے

دنیا نے بھر دیا مرا سینہ شکوک سے

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے