زمیں بھی ہاتھ سے گئی ، گرا ہے آسمان یوں

زمیں بھی ہاتھ سے گئی ، گرا ہے آسمان یوں
کسی کو دیکھتا نہیں کہ دل ہے بدگمان یوں
صدا کی بازگشت تھی وصال سے کٹی ہوئی
اُسے یہ کیوں سمیٹ کر چلی گئی زبان یوں
لہو بھی مانگتا ہو پانیوں کے بعد بادلو !
ابھی تلک کھڑا ہوا ہے ریت کا مکان یوں
وہ چاندنی سمٹ گئی ، وہ خوشبوئیں بکھر گئیں
سحر بھی سرخ سرخ ہے اُجڑ گیا جہان یوں
وہ نالۂ و غبار بھی نہیں رہا فراق میں
اُٹھو چلیں کہ تھم گئی ہے عشق داستان یوں
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے