زمانے پہ اپنا نشاں چھوڑ دوں گا

زمانے پہ اپنا نشاں چھوڑ دوں گا
ستم کامیں جب یہ جہاں چھوڑدوں گا
مکمل نہ کوٸی اِسے پڑھ سکے گا
ادھوری میں یہ داستاں چھوڑ دوں گا
بہاریں سمیٹو گے گلشن کی تم ہی
میں تیرےچمن کی خزاں چھوڑ دوں گا
تمھی بیٹھنا چاند کی روشنی میں
فلک کی میں جب کہکشاں چھوڑ دوں گا
سمجھ کچھ نہ پاٶ گےپھر تم صدا سے
اشاروں کی ایسی زباں چھوڑ دوں گا
محبت کا ہوگا چلن ہر طرف پھر
میں جب اپنےتیر وکماں چھوڑدوں گا
ملے گا مرا جسم مٹی میں پھر سے
میں نخوت کاجب آسماں چھوڑ دوں گا
اُٹھیں گے وہ نوحےبھی تربت سے میری
الم کی میں ایسی فغاں چھوڑ دوں گا
میں جاٶں گادنیاسےایسا تہی دست
محبت کےسود و زیاں چھوڑ دوں گا
بنے گی کہانی کتابوں کی زینت
میں جب اپنی عمرِ رواں چھوڑ دوں گا
رواں قافلے ہوں محبت کے پھر سے
میں نفرت کےسب کارواں چھوڑدوں گا
میں عاجز ہوں میرے کہے پہ نہ جانا
میں سب کچھ یہاں پرنہاں چھوڑ دوں گا
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے