زخم اپنے گلاب کر دینا

زخم اپنے گلاب کر دینا

روح کو ماہتاب کر دینا

ڈال کر اک نظر محبت کی

سب کو تم لا جواب کر دینا

روح کے زخم روشنی دیں گے

ہجر کو آفتاب کر دینا

پتھروں سے اگر جو بچنا ہو

عکس کو بھی سراب کر دینا

باب لکھنا ہو زندگی کا اگر

چاہتوں کو نصاب کر دینا

اپنی تعبیر ڈھونڈنے کے لئے

اپنی آنکھوں کو خواب کر دینا

خود کو مسمار کر کے شاہیں تم

اک ستارہ شہاب کر دینا

نجمہ کھوسہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے