زخم نیا بھی دو تو کیا

زخم نیا بھی دو تو کیا
ہم کو بُھلا بھی دو تو کیا
دریا پیاسا رہتا ہے
دشت پلا بھی دو تو کیا
قبر میں کب جاتی ہے لَو
دیپ جلا بھی دو تو کیا
ہنستے اچھے لگتے ہو
مجھ کو رُلا بھی دو تو کیا
دل اک ضدی بچہ ہے
دل کو سزا دو بھی تو کیا
چلنے والے چلتے ہیں
بوجھ بڑھا بھی دو تو کیا
صحرا صحرا رہتا ہے
پھول کِھلا بھی دو تو کیا
لمس مجھے اِک نعمت ہے
زخم دُکھا بھی دو تو کیا
راکھ تو یوں بھی راکھ ہی ہے
راکھ اُڑا بھی دو تو کیا
شاذؔ مجھے تو ہنسنا ہے
درد جگا بھی دو تو کیا
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے