یوں ہم سے نگاہیں نہ چرایا کرو جاناں !

یوں ہم سے نگاہیں نہ چرایا کرو جاناں !
غیروں کی طرح تم نہ ستایا کرو جاناں !
شرمندۂ تعبیر ہوں لازم تو نہیں ہے
ہاں ! خواب تو آنکھوں میں بسایا کرو جاناں !
ہم تم کو بھلانے کی کریں گے کوئی تدبیر
تم بھی تو ہمیں یاد نہ آیا کرو جاناں !
کھلتے نہیں صحرا میں گل و لالہ تو کیا غم
کانٹے ہی محبت سے اُگایا کرو جاناں !
ہم پیار جتانے کو اگر روٹھ ہی جائیں
تم پیار نبھانے کو منایا کرو جاناں !
سنتے ہیں دعاؤں سے بدل جاتی ہے قسمت
تم ہاتھ یقیں سے تو اٹھایا کرو جاناں !

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے