یوں وقت ہم سے گزارا نہیں گیا

یوں وقت ہم سے گزارا نہیں گیا
آنکھوں سے تیرے غم کا نظارا نہیں گیا
کیا بارِ توبہ تھا کہ سہارا نہیں گیا
فرعون سے خدا کو پکارا نہیں گیا
اُچھلیں بصد ارادہ فلک کی طرف مگر
موجوں سے ماہتاب اتارا نہیں گیا
کیا شخص تھا کہ جس کو نہیں جیت پائے ہم
کیا شخص تھا کہ ہم سے جو ہارا نہیں گیا
اک ایک کر کے اُس نے بھریں سب کی جھولیاں
بس ایک میرا نام پکارا نہیں گیا
کیا جانیے کہ کیسی کشش اس گلی میں ہے
جو بھی جہاں سے آیا دوبارہ نہیں گیا
اس دشت جان میں اشک کی بارش تھمی نہیں
پھر بھی یہ دشت ہم سے سنوارانہیں گیا
جانا ہے اس جہان سے تنہا تمہیں بھی شاذؔ
سورج کے ساتھ کوئی ستارہ نہیں گیا
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے