یوں سنگ چائے پیتے عمر بیت جائے

بھلے کوئی کتنی بھی اچھی بنائے

مگر دل کو بھائے، تمھاری ہی چائے

تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو

ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگائے

یہ ٹھنڈی ھوائیں، بیتابی بڑھائیں

ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آئے

یہ دھندلے سے منظر، یہ بھیگا دسمبر

بھلا کوئی تنہا یہ کیسے بیتائے

تھکن بے سبب ہے، اور یہی طلب ہے

اک کپ اپنے پن کا تو پھر سے پلائے

ہے اتنی سی حسرت، رہے باقی قربت

یوں سنگ چائے پیتے عمر بیت جائے

طارق اقبال حاوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے