یوں نہ کبھو کسو کا تماشہ بنائیے

یوں نہ کبھو کسو کا تماشہ بنائیے
فی الفور نقشِ حورِ بہشتی دکھائیے
بہتر نہیں ہے یوں دلِ غم دیدہ کی طلب
ہاں پہلے آپ چشمکِ انجم تو لائیے
لب قہقہے کے بوجھ سے ویران ہو چلے
صحرا میں جوشِ اشک ندامت بڑھائیے
آنکھوں کی پتلیوں پہ جمی پیاس کے طفیل
اب کشتہ ء ستم ذرا ایڑی گھمائیے
سنیے کبھو تو یوسفِ زندانی کی پکار
اور اس کے بعد گریہ ء یعقوب اٹھائیے
دل صید گاہِ خواب سے اکتا چکا تو کیا
وحشت میں نبضِ نیند پہ چاقو چلائیے
طیشِ زباں سے ماند پڑے جب سبھو کا رنگ
شورِ نشور سے رگِ گردن دبائیے
بیکار ہو چلا ہے وہ اب تیرِ نگہ پار
سانسوں کے پیرہن سے فقط خاک اڑائیے
ارشاد, میر جیسا کوئی دوسرا کہاں
کیا ہڈیوں کی آگ سے کاغذ جلائیے
ارشاد نیازی
شہباز یادش کے لیے 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے