یوں مرا جسم مسمار کرنے لگا

یوں مرا جسم مسمار کرنے لگا
آئینہ عکس پر وار کرنے لگا
اور پھر رُک گئی گردشِ وقت بھی
عشق اپنی حدیں پار کرنے لگا
آخری سانس تھی زندگی کی مری
جب محبت کا اظہار کرنے لگا
مجھ میں جلتا ہوا اک دیا دفعتاً
رقص کرنے پہ اِصرار کرنے لگا
شاذ آنسو بچھا کر مری راہ میں
وہ سفر میرا دُشوار کرنے لگا
شجاع شاذ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے