یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے

یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے
میں مسرتوں میں گم تھا تری دوستی سے پہلے
ترے حسن نے جگایا میرے عشق بے بہا کو
تری جستجو کہاں تھی مجھے شاعری سے پہلے
تو شریک زندگی ہے میں ہوں غم گسار تیرا
تیرا غم رہا ہے شامل میری ہر خوشی سے پہلے
دے اگر مجھے اجازت جو مرا ضمیر مجھ کو
میں تجھے خدا بنا لوں تری بندگی سے پہلے
ترے حسن کی کہانی مرے عشق کا فسانہ
بہت عام ہو چکا ہے غم عاشقی سے پہلے
تجھے رہنما بنا کر مجھے مل گئی ہے منزل
میں بہت بھٹک رہا تھا تری رہبری سے پہلے
کہو میر کارواں سے مجھے اس طرح نہ دیکھے
میں بڑا فراخ دل تھا کبھی دل لگی سے پہلے
یہ متاع رنج و غم اور شب ہجر کا یہ عالمؔ
تھا کہاں مرا مقدر تری بے رخی سے پہلے
افروز عالم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے