یوں بھی چھپتا ہے بھلا، وجد میں آیا ہُوا رنگ؟

یوں بھی چھپتا ہے بھلا، وجد میں آیا ہُوا رنگ؟
سب کو دکھنے لگا احساس پہ چھایا ہُوا رنگ
قیمتی شے کی طرح میں نے سنبھالا ہُوا ہے
تیری پوشاک کے رنگوں سے چرایا ہُوا رنگ
یعنی پھر میرے مقدر میں وہ ساعت آئی
پہنا ہے یار نے اب میرا بتایا ہُوا رنگ
رقص کرتی ہوئی بل کھاتی ہوئی ڈالی پر
آنکھ نے دیکھا ہے شبنم میں نہایا ہُوا رنگ
سرمئی شام ڈھلی باغ میں خوشبو اُتری
یاد آیا تری قربت کا بھلایا ہُوا رنگ
زرد لمحوں میں اگر لفظ خموشی اوڑھیں
حال کہتا ہے مری آنکھ میں آیا ہُوا رنگ
اتنی توقیر جو میری ہے زمانے میں سعید
رنگ ہے مجھ پہ یہ مرشد کا چڑھایا ہُوا رنگ
مبشّر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے