یوں بھـــی اپنا دل بہـــــــــــلاتا رہتا تھا

یوں بھـــی اپنا دل بہـــــــــــلاتا رہتا تھا
ریشــــــم جیسـے خــــواب بناتا رہتا تھا
چھیڑ کے سازِ ہجر میں رات کے پچھلے سمَے
گلیــــــــــــــوں میـں آواز لگاتا رہتا تھا
اب یہ جــانا میرے حــق میـں بہـتر تھا
جـــو میـں اپنا آپ چُھـــــــــپاتا رہتا تھا
اک شہزادی خواب میں ملنے آتی تھی
اور میں اس کو خـــواب سناتا رہتا تھا
اک درویش پڑوسی تھا اور وہ مجھ کو
‘ شِـرک نہ کرنا ‘ یہ سمجھــاتا رہتا تھا
 طـــارقؔ جــاویـد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے