فروری 5, 2023
عابد ضمیر ہاشمی کا اردو کالم

آج 25 دسمبر کو ملک بھر میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کا 147 واں یومِ پیدائش مِلّی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی شکل میں عظیم تحفہ دینے والے قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔قوم آج عقیدت و احترام سے ان کا یوم پیدائش منا رہی ہے۔قائد اعظم کے کارنامو ں اور تاریخی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹینلے والبرٹ نے تحریر کیا کہ”چند افراد نے تاریخ کے دھارے کو بدلنے کی نمایاں کوشش کی اور دُنیا کا نقشہ تبدیل کی‘ لیکن شائد ہی کسی رہنما کو قومی ریاست قائم کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہو یہ کارنامہ محمد علی جناح نے سرانجام دیا“۔ ایسی شخصیت جنھیں نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی مانتے تھے۔

قائد اعظم ایک ہمہ گیر سیاسی رہنما تھے یہ ان کی سچی اور پر خلوص جدوجہد کانتیجہ تھاکہ بے شمار دشواریوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایک مقتدر مملکت پاکستان وجود میں آئی۔ قائد اعظم پاکستان کو مضبوط و مستحکم‘ترقی یافتہ اور خود کفیل بنانا چاہتے تھے مگر زندگی نے ان کو مہلت نہ دی اور وہ مختصر علالت کے بعد 11ستمبر1948ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ قائد اعظم کہتے تھے کہ میرا کام اب ختم ہوچکا ہے اب مجھے مرنے کا افسوس نہ ہوگا‘چندبرس قبل یقینا میری آرزو تھی کہ میں زندہ رہوں اس لیے نہیں کہ مجھے دُنیا کی تمنا تھی یا میں موت سے خوف کھاتا تھابلکہ اس لیے کہ قوم نے جو کام میرے سپرد کیا تھا اور قدرت نے جس کام کے لیے مجھے چنا تھا‘ میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا سکوں۔ وہ کام پورا ہوگیا ہے میں اپنا فرض نبھا چکاہوں‘ پاکستان بن گیا ہے۔ اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اس کی تعمیر کرے اورناقابل تسخیر اور ترقی یافتہ ملک بنائے۔

قائداعظم جس پاکستان کو مضبوط و مستحکم، ترقی یافتہ اور خود کفیل دیکھنا چاہتے تھے آج اسی پاکستان کی ہم نے چو لیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور وہ ترقی کی راہ سے بھٹک کرگداگری کی راہ پرآن پڑا ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ سونا اگلتی زرخیز زمینیں‘سمندر‘ پہاڑ‘ میدان‘سونا‘ چاندی‘ تانبے‘قیمتی پتھر‘کوئلے کے ذخائر‘قدرتی نمک کے ذخائر‘ قدرتی گیس‘ تیل‘ سال میں چار موسم‘ پاکستان کپاس کی پیداوار کے حوالے سے دُنیاکاپہلا ملک، چینی پیدا کرنے والا 5 واں‘ گندم پیداکرنے والا 9 واں ملک ہے مگر پھر ہم مجبورہیں۔ جس کے گھر میں پیٹ بھرنے کے لیے کھانا ہو۔ جس کے پاس تن ڈھکنے کے لیے کپڑا موجود ہو۔ جس قوم کا تھوڑی سی محنت کرنے پر تابناک مستقبل قدم چومے اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ دوسروں کے سامنے دست دراز کرے۔ وہ قوم جس پر زکواۃ دینا فرض ہو۔ وہ قوم خود غیر مذہب لوگوں سے جھولی پھیلائے اور دوسروں سے صدقہ و خیرات مانگ رہی ہے۔ قائد اعظم جس قوم کو معاشی چکی میں پسنے سے بچانا چاہتے تھے آج اسی قوم کا برا حال ہے اور ایسا صرف اس لیے ہوا ہے کیونکہ ہم نے قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کی ایمان داری‘ دیانت داری‘ مستقل مزاجی‘فرض شناسی‘روشن خیالی اور عمدہ اصولوں کوبھی ان کے ساتھ ہی دفن کردیاہے۔ آج ہم اپنے دفتروں میں بڑے فخرکے ساتھ اپنے قائد کی بڑی سی تصویر لگاتے ہیں کہ ہم تو بڑے محب وطن‘ اور قائدانہ سوچ کے حامل ہیں، اور پھر اسی دفتر میں بیٹھ کرنا انصافی‘ بددیانتی‘ رشوت‘ سفارش‘ اقرباء پروری اوردوسرے بہت سے معاملات میں سارا سارا دن ہیر پھیرکرتے رہتے ہیں اور ہماری پشت پر لگی ہے قائد کی تصویر! کیا یہ ان کی پر خلوص قربانی کی توہین نہیں ہے۔ اگر ہم ان کی سیاسی بصیرت اورعمدہ اصولوں سے رو گردانی نہ کرتے تو یقیناآج ہمارا حال کچھ اور ہوتا۔ مگر ہم نے نہ صرف ان کے احسانات بلکہ ان کے قول و عمل کو بھی فراموش کردیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری نو جوان نسل بھی اپنے عظیم قائد کی پر وقار زندگی سے پوری طرح آگاہ نہیں اگر ان سے غیرملکی فلمسٹاروں کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ فر فر پورا بائیو ڈیٹا بتائیں گے‘ ٹی وی ڈراموں کا پوچھا جائے تو یقینا سبھی یاد ہونگے‘ مگر اگر ان سے قائد اعظم کی زندگی کا کوئی حوالہ پوچھا جائے تونتیجہ غلط جواب کی صورت میں نکلے گا‘ مگر اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے یہ سارا کیا دھرا تو ہمارا ہے ہم نے ان کو بتایا ہی کب ہے اور سکھایاہی کب ہے؟ ان کے سامنے ایمان داری‘دیانت داری‘ مستقل مزاجی‘ فرض شناسی‘ روشن خیالی اور عمدہ اصولوں کا مظاہرہ کیا ہی کب ہے؟افسوس کہ ہم اپنے ساتھ ساتھ نوجوان نسل جسے قائد اعظم قوم کا سرمایہ کہتے تھے کو بھی تباہ و برباد کر رہے ہیں۔

ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ صرف نام رکھنے یا دفتروں میں ان کی تصاویر آویزاں کرنے یا سالانہ برسی منانے سے قائداعظم کے مقاصد کی تکمیل نہیں ہوسکتی جب تک ان کی سیرت کو اختیار کرکے اصول پسندی اور فرض شناسی کو اختیار نہیں کیا جاتا۔ آج ہمیں تجدید عہد کرنا ہوگا کہ ان کے فرمودات کے مطابق عمل پیرا ہوکر اور اپنے اندر ایمان، اتحاد اور تنظیم قائم کرکے پاکستان کی قسمت بدلنے کا ان کا خواب شرمندہ تعبیر کریں۔یوم قائد اعظم تجدید عہد کا دن ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے عظیم قائد نے قوت ایمانی اور سیاسی حکمت عملی کے اسلحہ سے لیس ہو کر انتھک محنت اور جدوجہد کر کے اس خطہ ارضی کو حاصل کیا۔ یہ خطہ ارضی ہم نے پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ کا ایمان افروز نعرہ لگا کر بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل کیا، لیکن ہم بنیادی مقصد ہی بھول گئے۔ان حالات میں روح قائد پکار پکار کر ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے کہ ہم خواب غفلت سے کب بیدار ہوں گے؟ قیام پاکستان کے مقصد کو کب پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے؟ قائد کے خواب کو کب شرمندہ تعبیر کریں گے؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا؟۔اس وطن‘ا ٓزادی کی قدر کیجیے‘ کیوں ہم تصور نہیں کرسکتے کہ ہمارا کیا حال ہوتا۔ ہم ہندوؤں کی غلامی کررہے ہوتے‘سینما گھروں کے گیٹ کیپر‘ٹیکسی ڈرائیور‘گوالے‘کھیتوں میں کام کرنے والے‘ سائیں‘مالشیئے‘ دھوبی وغیرہ ہوتے۔ لیکن ایک فرشتہ خصلت‘مجاہد قائد اعظم نے ہمیں اس لعنت سے بچا لیا۔ہم ان کے اصولوں کو اپناتے ہوئے ملک سے وفاء داری کرنا ہوگی۔

عابد ضمیرہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے