یوم کشمیر اور ہمارا کردار

Awa


یوم کشمیر اور ہمارا کردار

پچھلے سال یوم کشمیر کے حوالے سے انہی دنوں میں ایک تحقیقی کالم لکھا جو "ہلال” سمیت کئی اخبارات میں شائع ہوا،اس کے بعد پے در پے ملکی حالات واقعات،آلام و سانحات اور غم جہاں نے اتنی بھی فرصت نہ دی کہ کشمیر کے مظلوم عوام کی دکھ بھری داستان کے متعلق کچھ سوچا بھی جائے۔اقبال کی افکار ونظریات کے بغیر ہمیشہ کی طرح انتہائی جوش و خروش سے یوم اقبال منانے اور پھر بچوں کے بہیمانہ ذیادتی و قتل پر واویلہ کرنے کے بعد پوری قوم اب سب کچھ بھول کرکشمیر پر ہونے والے بھارتی مظالم پرایک دن کے لیے ایسے نوحہ کناں ہے،جیسے سارا درد سمٹ کر اسی کے کلیجے میں آ گیا ہو،اور ہم سے بڑھ کر کسی کو کشمیر کے مقبوضہ ہونے کا غم نہیں ہے۔
اب ہم نے پوری ایمانداری سے اس دکھ کو6 فروری سے اگلے 5 فروری تک کے لیے خیر باد کہہ دینا ہے۔ویسے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ہم بھی کیا کریں، دکھ ہی اتنے ہیں کہ ہرسوگ کو چند دن سے ذیادہ منانا اگلے سوگ سے نا انصافی ہو گی۔اور نا انصافی ہمیں کسی صورت بھی قبول نہیں۔ہم تو نا انصافی کرنے والے کے جنازے کے ساتھ بھی نہیں جاتے۔کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور افسوس ہے کہ ہماری نئی نسل کو اس شہہ رگ کی اہمیت کا اندازہ تو درکنار تعارف بھی نہیں ہے۔میں نے کالج کے کئی بچوں کو آپس میں استفسار کرتے سنا ہے کہ 5 فروری کو کس بات کی چھٹی ہے؟کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ چلو اچھا ہے انڈیا کی نئی فلم آئی ہے،سکون سے دیکھیں گے۔اوراس کے بعد وہ طلبا اس نوجوان کو چھٹی کا بہترین مصرف بتانے اور اتنی خوبصورت رائے دینے پر شاباش دیتے ہوئے اتفاق رائے سے خوشی خوشی منتشر ہو گئے۔وہ بھی کیا دن تھے جب” ناہید ” نام کی ایک بیٹی کے ایک خط نے محمد بن قاسم کو پورے لشکر کے ساتھ انصاف بہم پہنچانے کے لیے جہاد پر آمادہ کر دیا تھا اور وہ غیور بھائی بہن کی پکار پر راجہ داہر سمیت کئی سورماؤں کو نست و نابود کرتا ہوا دیبل تک کو فتح کر گیا۔آج بھائی دشمنان اسلام کے پھیلائے ہوئے فریبی جال میں جکڑے جا چکے ہیں جنہیں حمیت،قومیت اور عظمت کے مفہوم و اصول اور دشمنی کے تقاضے تک کا بھی علم نہیں ہے۔آج ہر گز یہ دل نہیں کہ میں بتاؤں کہ کتنے نوجوان اب تک بھارتی استعماریت کی وجہ سے شہید ہو گئے؛ بھارتی درندوں نے کتنی بہنوں کی عصمت دری کی؛کتنی مسلمان بیٹیوں کے سہاگ اجڑے اور کتنے بچے یتیم ہو کر ہمیشہ کے لیے اپنے باپ کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے۔اور یہ کہ فلاں سال یہ قرادداد منظور ہوئی،فلاں سال وہ بل پاس ہوا۔فلاں دور میں فلاں نے کشمیریوں پرہونے والے ظلم پراسمبلی میں بڑی دھواں دار تقریر کی کہ دشمنوں کے دانت کھٹے ہو گئے۔فلاں نے بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارا۔بلکہ آج اس بات کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ہم سوچیں کہ کیا 5 فروری ایک رسم ہے جسے ہر سال ایک دن کی طرح منانا چاہیے؟کیا 5 فروری ایک رواج ہے جسے بازؤں پر کالی پٹیاں پہن کر نبھانا چاہیے؟پھراپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو کر سب اپنے کام دھندوں میں مگن ہو جائیں کہ اگلے سال پھردیکھیں گے۔یہ سلسلہ کب تک یونہی چلتا رہے گا۔ہم اپنے ملک میں ہونے والی خانہ جنگی،منافرت،فرقہ واریت اور انارکی سے نکلیں تو کچھ اور سوچیں ناں۔ہم نے کبھی سوچا ہے کہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منانے کی بجائے کشمیر کی آزادی کا دن ہم کب منائیں گے۔جان و مال،عزت و آبرو کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے باوجود بھی سب کچھ بے نتیجہ آخر کیوں ہے؟قربانیاں رائیگاں کیوں جا رہی ہیں؟کشمیر کمیٹی کے پاس کشمیر پر بات کرنے کے علاوہ ہرقسم کی گفتگو کرنے کا وقت ہے؛مسئلہ کشمیر کے علاوہ ہر مسئلہ کو حل کرنے کا اختیار ہے؛موضوع کشمیر کے علاوہ ہر موضوع میں دلچسپی ہے۔کیا ہم اتنے گئے گزرے ہو گئے کہ دنیا ہماری بات سننے کی بھی روادار نہیں؟کیا ہم میں کوئی ایسا ماہروکیل نہیں جو بھارت کی بربریت کے خلاف ایک بہترین کیس تیار کرے جسے بمطابق قانون دنیا کی عدالتوں میں بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے اور پھر سنجیدہ بنیادوں پر اس کی پیروی کی جائے۔
اقوام متحدہ اور دیگرعالمی اداروں کوایک چست مدعی بن کر اس مسئلے کے حل کے لیے اکسایا جائے۔اپنے دلائل سے انہیں قائل کیا جائے۔کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور آزادی کے لیے اپنے حق میں فیصلہ کرنے پر مجبور کیا جائے۔ لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب سنجیدہ طریقے سے دنیا کو بھارت کا اصلی گھناؤنا چہرہ دکھانے کے لیے جدوجہد کی جائے۔ورنہ دن آتا رہے گا،ہم جذباتی بینروں کے سائے میں کھوکھلے نعروں اور تقریروں سے اسے مناتے رہیں گے اور ہمارے کشمیری بھائی ظلم سہتے رہیں گے۔آج ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اپنی نوجوان نسل کو بھارت سے کم از کم اتنی نفرت کا احساس تو دلایا جائے جتنی نفرت بھارت ہم سے کرتا ہے۔آج سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے محبت کااولین تقاضا یہ ہے کہ اس کے دشمن سے نفرت کی جائے۔کیونکہ دشمن سے نفرت ہی دشمن پر قابو پانے کا راستہ دیتی ہے۔میری غزل کا ایک شعر ہے
ایسا کبھی ہو کاش کہ ملّت مری کے ساتھ
میّت کرے جو دفن تو غیرت نکل پڑے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے