یہی تو بات … گوارا نہیں محبت کو

یہی تو بات … گوارا نہیں محبت کو
کہ دستیاب میں سارا نہیں محبت کو
سخن شناس مری بات کی گواہی دیں
بسر کیا ہے … گزارا نہیں محبت کو
جو بات سچ ہے اسے صاف صاف کہہ دی ہے
دعائیں دوں گا ، سہارا نہیں محبت کو
پرانے گھاؤ کھرچ کر دکھا دیئے ہیں اسے
بتا دیا ہے خسارہ نہیں محبت کو
پھر اس کے بعد کوئی پیرہن نہیں بدلا
پہن لیا تو اتارا نہیں محبت کو
ہمارے اشک ستارے نہ بن سکے بہنام
کوئی خیال ہمارا نہیں محبت کو
بہنام احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے