یہی نہیں کہ فقط شاعری دھڑکنے لگی

یہی نہیں کہ فقط شاعری دھڑکنے لگی
تری نظر سے مری زندگی دھڑکنے لگی

ہوا چلی تو ہر اک پیڑ جھوم جھوم اٹھا
وہ خوش ہوا تو ہر اک سر خوشی دھڑکنے لگی

میں برف زار پہ اک نام لکھنے والا تھا
قریبی جھیل میں جب چاندنی دھڑکنے لگی

پڑھی ہے سورہ والعصر اس طریقے سے
کلائیوں پہ بندھی ہر گھڑی دھڑکنے لگی

وہ سن رہا ہے مری دھڑکنوں کی دھڑکن کو
نا چاہ کر بھی مری بے خودی دھڑکنے لگی

تمھارے شہر کی دیوار سے لگے ہوئے تھے
ہمارے سینے میں جب آگہی دھڑکنے لگی

مرے سرھانے کسی نے تمھارا نام لیا
بجھے دیے میں نئی روشنی دھڑکنے لگی

صابر رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔