یہی نہیں تھا کہ لوگ دشمن بنے ہوئے تھے

یہی نہیں تھا کہ لوگ دشمن بنے ہوئے تھے
ہمیں محبت میں اور بھی مسئلے ہوئے تھے

گزشتہ شب پھر مری نگاہوں نے تجھ کو ڈھونڈھا
گزشتہ شب بھی یہ دونوں دریا چڑھے ہوئے تھے

ہمارے بارے میں کچھ بھی سوچا نہیں گیا تھا
ہماری قسمت کے جس گھڑی فیصلے ہوئے تھے

شراب کا کیا ہے پی ہی لیتے حضور لیکن
ہمیں میسر ہی کب وہ دو میکدے ہوئے تھے

تو آپ کہتے ہیں آپ سے عشق ہے کسی کو
جناب ایسے گماں ہمیں بھی بڑے ہوئے تھے

سہولتوں سے ہمیں بھی منزل نہیں ملی ہے
ہمارے بھی راستوں میں پتھر پڑے ہوئے تھے

ہمی نے آ کر جلائے ہیں دیپ چاہتوں کے
ہمارے آنے سے پہلے تو یہ بجھے ہوئے تھے

میں جانتا تھا تو ایک دن مجھ کو چھوڑ دے گا
عمل بھی ہونا تھا یار اگر مشورے ہوئے تھے

یہ دنیا والوں کے وار ضائع گئے ہیں مہدی
ہم ایسے مجنوں تو پہلے سے ہی مرے ہوئے تھے

جاوید مہدی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے