یہی دعا ہے یہی ہے سلام عشق بخیر

یہی دعا ہے یہی ہے سلام عشق بخیر
مرے سبھی رفقائے کرام عشق بخیر
دیار ہجر کی سونی اداس گلیوں میں
پکارتا ہے کوئی صبح و شام عشق بخیر
میں کر رہا تھا دعا کی گزارشیں اس سے
سو کہہ گئی ہے اداسی کی شام عشق بخیر
بڑے عجیب ہیں شہر جنوں کے باشندے
ہمیشہ کہتے ہیں بعد از سلام عشق بخیر
یہ رہ ضرور تمہارے ہی گھر کو جاتی ہے
لکھا ہوا ہے یہاں گام گام عشق بخیر
بیان کی ہے غزل وار داستان عشق
سو اس کتاب کا رکھا ہے نام عشق بخیر
افق کے پار مجھے یاد کر رہا ہے کوئی
ابھی ملا ہے ادھر سے پیام عشق بخیر
رحمان فارس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے