یہی اب کام کرنا ہے

یہی اب کام کرنا ہے
ستاروں سے کہو
اب رات بھر ہم ان سے باتیں کر نہیں سکتے
کہ ہم اب تھک گئے جاناں!
ہمیں جی بھر کے سونا ہے
کسی کا راستہ تکنے کا یارا بھی نہیں ہم کو
مسافر آگیا تو ٹھیک ہے لیکن،
نہیں آتا تو نہ آئے
ان آنکھوں میں ذرا بھی روشنی باقی نہیں شاید
وگرنہ تیرگی ہم کو یوں گھیرے میں نہیں لیتی
مگر یہ سب،
ازل سے لکھ دیا تھا لکھنے والے نے
ستاروں سے کہو، بہتر ہے ہم کو بھول ہی جائیں
ہمیں آرام کرنا ہے
ضروری کام کرنا ہے
فاخرہ بتول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے