یہ تم نے کیا کیا؟

یہ تم نے کیا کیا؟
پتھر کے بُت میں دھڑکنوں کو کھوجنا چاہا
یہ تم نے دل کی دھڑکن میں،
پرایا گیت لکھ ڈالا
خود اپنے ہاتھ سے اپنے ہی ماتھے کو،
سیاہی سے کیا کالا
محبت اس جہاں کی شے نہیں،
میں نے کہا تھا نا ؟
اب اس شے کی تجارت ہو رہی ہے جس طرف دیکھو
مری باتوں پہ اب وشواس تم کو آگیا ہوگا؟
چلو، اشکوں سے سارے خواب دھو ڈالو
تمھارا ہاتھ جو مانگے تو اب تم اس کے ہو جاؤ
محبت بھول جاؤ تم۔۔۔۔ محبت بھول جاؤ تم
فاخرہ بتول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے