یہ تو نہیں کہ ہم نے رستہ چھوڑ دیا ہے

یہ تو نہیں کہ ہم نے رستہ چھوڑ دیا ہے
اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنا چھوڑ دیا ہے
آیا تھا جو مجھ سے ملنے کون تھا وہ
اُس نے باہر اک گلدستہ چھوڑ دیا ہے
آدھا بھرا گلاس مجھے اچھا لگتا ہے
آدھا پانی پی کر آدھا چھوڑ دیا ہے
مجھ کو کرتے پینٹ مصوّر کیسے تو نے
آنکھوں کے نیچے کا حلقہ چھوڑ دیا ہے
جس کی آنکھوں میں دکھتا تھا اپنا سایہ
اُس لڑکے نے خواب میں آنا چھوڑ دیا ہے
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے