یہ تیز روشنی شیشے میں قید ہے کیسے

یہ تیز روشنی شیشے میں قید ہے کیسے
نظر مری تیرے چہرے میں قید ہے کیسے

یہ مجھ میں آتی ہوئی زندگی، یہ جاتی ہوئی
یہ سانس کیا ہے، یہ سینے میں قید ہے کیسے

یہ تیز رَو، یہ درختوں کے سر جھکاتی ہوا
اس آسمان کے حلقے میں قید ہے کیسے

یہ نطق و لوح و قلم کب سے ہیں بھلا مصروف
یہ علم کیا ہے، یہ بستے میں قید ہے کیسے

یہ میرے سامنے شکلیں بدل کے آتا ہوا
یہ آدمی مرے حلئے میں قید کے کیسے

قدم اُٹھاتا ہے سایہ تو اُٹھنے لگتی ہے
یہ دھوپ کیا ہے، یہ سائے میں قید ہے کیسے

یہ مجھ کو تیری طرف کھینچتا ہوا کامیؔ
یہ راستہ مرے رستے میں قید ہے کیسے

سید کامی شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے