یہ سوچ کر مرا صحرا میں جی نہیں لگتا

یہ سوچ کر مرا صحرا میں جی نہیں لگتا
میں شامل ِ صف ِ آوارگی نہیں لگتا
کبھی کبھی وہ خدا بن کے ساتھ چلتا ہے
کبھی کبھی تو وہ انسان بھی نہیں لگتا
یقین کیوں نہیں آتا تجھے مرے دل پر
یہ پھل کہاں سے تجھے موسمی نہیں لگتا
میں چاہتا ہوں وہ میری جبیں پہ بوسہ دے
مگر جلی ہوئی روٹی کو گھی نہیں لگتا
میں اُس کے پاس کسی کام سے نہیں آتا
اسے یہ کام کوئی کام ہی نہیں لگتا
ترے خیال سے آگے بھی ایک دنیا ہے
ترا خیال مجھے سرسری نہیں لگتا
تہذیب حافی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے