یہ پیڑ اور پرندے عجب اداسی ہے

یہ پیڑ اور پرندے عجب اداسی ہے

ترے بغیر مرے یار سب اداسی ہے

گئے وہ دن کہ مری بانہوں میں تو ہوتا تھا

اٹھے ہیں ہاتھ مگر ان میں اب اداسی ہے

نہ سر ہی پھوڑا، نہ بالوں کو میں نے نوچا کبھی

اداس ہوں، یہ مگر دوست کب اداسی ہے

مجھے نواز کوئی ہجر سے بھرا ہوا عشق

میں وہ فقیر ہوں جس کی طلب اداسی ہے

رہا نہ ہجر مگر میں اداس ہوں پھر بھی

مری اداسی کا شاید سبب اداسی ہے

اسے کہو کہ مرے سانس اکھڑ رہے ہیں ندیمؔ

اسے بتاؤ کہیں جاں بہ لب اداسی ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے