یہ مِرا دل ہے

یہ مِرا دل ہے
یہ مرا دل ہے
نہیں سنگِ مزار
جس پہ سر جھکنے سےریزہ ریزہ ہوں سب آٸنے
اور ناں یہ دیوتاٶں کی کوٸی قربان گاہ
جس کی دیواروں پہ ، در پر
ہو لہو روشن کسی انسان کا
خوف ہو ذہنوں کی شاخوں پر حشم کا
اک مقدس اور پاکیزہ حشم کا !
جس سے جھک جاتے ہیں انسانوں کے سر دیوانہ وار
سامری راہب کے آگے
دیوتاٶں کے حضور
آدمی کچھ اور بھی ہو جاتا ہے ” ہونے “ سے دُور
یہ ہے میرا دل بیاباں
زاٸروں کی مفلسی ، کم ماٸیگی سے دُور
نذرانہ گزاروں سے تہی
مکرو ریا کے زاویوں ، کشکول زادوں سے بھی دُور
دُور تک خود اپنی ہی ویرانیوں کے درمیاں
دُور تک جس میں فقط خاموشیاں
شام ڈھل جاٸے تو
جس میں جل اٹھیں
انساں کی عظمت کے چراغ
آدمیت کے ایاغ
نُور سے بھی قیمتی مٹی کے داغ
اپنے ہونے کے سراغ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانس لیتا ہے
دھڑکتا ہے یہ بیکل بار بار
یہ مرا دل ہے نہیں سنگِ مزار
یونس متین

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے