یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں​

یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں​
کرو گے یاد، ایسا آدمی ہوں​

مرا نام و نسب کیا پوچھتے ہو​
ذلیل و خوار و رُسوا آدمی ہوں​

تعارف اور کیا اس کے سوا ہو​
کہ میں بھی آپ جیسا آدمی ہوں​

زمانے کے جھمیلوں سے مجھے کیا​
مری جاں! میں تمھارا آدمی ہوں​

چلے آیا کرو میری طرف بھی​
محبت کرنے والا آدمی ہوں​

توجہ میں کمی بیشی نہ جانو​
عزیزو! میں اکیلا آدمی ہوں​

گزاروں ایک جیسا وقت کب تک​
کوئی پتھر ہوں میں یا آدمی ہوں​

شعور آجاؤ میرے ساتھ لیکن​
میں اک بھٹکا ہوا سا آدمی ہوں​

انور شعور​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے