یہ کیا کہ حالِ دلِ زار اسے سنانے کو

یہ کیا کہ حالِ دلِ زار اسے سنانے کو
میں اپنے ساتھ رُلاتا ہوں اِک زمانے کو
جو اس کی یاد نہ آئے تو جی ٹھہر جائے
ہوا تو چاہیے بجھتا دیا جلانے کو
درونِ سینہ عجب شور سا ہے چڑیوں کا
کسی نے آگ دکھائی ہے آشیانے کو
میں کائنات میں بکھرا پڑا ہوں بے مصرف
یہ کس نے رنگ دیا ہے مرے فسانے کو
بھرم رکھا ہے اُسی نے مرا محبت میں
وہ آزما بھی تو سکتا تھا آزمانے کو
کہاں نکلتا ہے شیشے میں بال آیا ہوا
نبھا رہے ہیں تعلق تو ہم نبھانے کو
جو اختیار میں ہوتا تو کر گزرتے ہم
ذرا سی دیر نہ لگتی اسے بھلانے کو
وہ دل لگی میں نہ سمجھا کہ عشق کیا شے ہے
اب اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں چھپانے کو
مجھے تو سعدؔ محبت کا پاس رکھنا ہے
اگرچہ اشک بھی باقی نہیں بہانے کو
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے