یہ جو نصیبِ عشق ہے ، یہ جو غبارِ عشق ہے

یہ جو نصیبِ عشق ہے ، یہ جو غبارِ عشق ہے

اس کا گلہ نہ کرمیاں ، عشق ہے پیارے عشق ہے

کتنے دنوں سےرنج بھی ٹھیک سے کر نہیں رہا

کتنے دنوں سے تیرا رنگ آئنہ دارِ عشق ہے

چند دنوں میں ہو گا تُو ، ایک بگولا رقص خُو

چند دنوں کی بات ہے ، یہ جو قرارِ عشق ہے

بات یہ ہے کہ ناصحا ، تجھ سے کروں میں بحث کیا

کوئی شریرِ عشق ہے ، کوئی شرارِ عشق ہے

وقت سے دُور ہو سکیں ، چین کی نیند سو سکیں

آج بھی اس جہان میں کیا کوئی غارِ عشق ہے

عشق کی چاہ کر نہیں ، دیکھ تجھے خبر نہیں

راج کمار عشق ہے، راج دلارے عشق ہے

لفظ سخن سہی مگر لفظ سخنوری نہیں

کاری گری ہے اور شے، اور یہ کارِ عشق ہے

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے