یہ جو چُپ چاپ خلاؤں میں تکا کرتے ہیں

یہ جو چُپ چاپ خلاؤں میں تکا کرتے ہیں
وقت کے ساز کی آواز سُنا کرتے ہیں

اپنی پلکوں سے وہ کر دیتے ہیں جادُو وادُو
اور ہم دیکھتے رہتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں

جس پہ لوگوں سے سُنا کرتے تھے سایہ ہے کوئی
ہم اُسی پیڑ کے سائے میں رہا کرتے ہیں

یہ جو کچھ لوگ روانہ ہیں زمیں کے اندر
کیا یہ تبدیل کوئی آب و ہَوا کرتے ہیں

دشت کے پار سمندر کا بھی امکاں رکھنا
دشت کے پار سمندر بھی ہُوا کرتے ہیں

ایک تو تیرے حضور آئے ہیں کچھ یوں چُپ ہیں
اور محفل کے بھی آداب ہُوا کرتے ہیں

ہجر لاحق تھا تو مصروف بہت تھے کامیؔ
آج کل دشت میں بے کار پھِرا کرتے ہیں

سید کامی شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے