یہ عشق مجھ کو درحقیقت خوار کر گیا

یہ عشق مجھ کو درحقیقت خوار کر گیا
جان و دل پہ میرے ایسا کوئی وار کر گیا
غیرکے ہاتھ پیغام بھیجے تو کیوں بھیجے
وہ جوآیاتو اسی بات پہ تکرار کرگیا
غموں سے ٹوٹنے والی کہاں تھی میں
یہ کام بھی اکیلے تو میرے یار کرگیا
بیساکھیاں بن گئے لوگ میری، تیرے بعد
مجھےچھوڑ کر ایسے لاچار کر گیا
خود پارسائی کا ڈھونگی اور مجھے،
اپنے نشے میں چھوڑ کر مےخوار کر گیا
کبھی دیکھتا فرشتہ اور کبھی انساں
خود کو خودی تو فتنہ رفتار کر گیا
کوئی حائل نہیں ہوسکتا ہمارے بیچ
تو بے وفائی کی گرد میرے دیوار کرگیا
دل توڑنے کا مقدمہ میں کہاں پیش کرو؟
وہ کیسا جرم ساتھ میرے سرکار کر گیا
میرےمرض کی دوا ہےبس اک شخص
جوہجر میں سخت مجھ کو بیمار کر گیا
دل کہیں زہن کہیں ہوش نہیں تہمینہ
ایک شخص مجھے ایسے بیکار کر گیا
تہمینہ مرزا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے