یہ باز گشت جو سب کو سنائی جاتی ہے

یہ باز گشت جو سب کو سنائی جاتی ہے
یہ روشنی مرے کمرے سے لائی جاتی ہے

میں چاہتا ہوں مرا پھول خود پکارے مجھے
وگرنہ شاخ تو کیا کیا جھکائی جاتی ہے

میں خود کفیل اداسی کا پہلا وارث ہوں
یہ فصلِ گل بھی مجھی سے اگائی جاتی ہے

جنوں میں خاک اڑاؤ فغاں بلند کرو
ہمارے عشق کی میت اٹھائی جاتی ہے

یہ کائنات تو کچھ بھی نہیں زمیں بھی منیر
ہمارے پاؤں کے نیچے گھمائی جاتی ہے

منیر جعفری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے